May 16, 2021 | 8:49 PM

Trend TV

Better Informed Today

مسلمان بچوں کی گرفتاریاں

فرانس: مسلمان بچوں کی گرفتاریاں

خود کار اور آتشیں اسلح سے لیس درجنوں پولیس افسروں نے، جنہوں نے سکیورٹی کٹ پہنی ہوئی تھی، حال ہی میں فرانسیسی شہر البرٹ ول میں ایک وسیع و عریض کمپلیکس میں واقع چار اپارٹمنٹس پر چھاپے مارے۔ انہوں نے کمپیوٹر اور موبائل فون ضبط کرلئے ، گدوں کے نیچے اور درازوں کی تلاشی لی ، اور قرآنی آیات سے مزین دیواروں اور کتابوں کی تصاویر بھی لیں۔پولیس ’’دہشت گردی کا دفاع‘‘ کرنے کے الزام میں چار ملزموں کو حیران و پریشان اہل خانہ کے سامنے گرفتار کر کے لے گئی۔’’یہ ناممکن ہے‘‘ ایسی گل پولات نے اپنے بیٹے کو ساتھ لے جانے والے ایک افسر کو بتاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ بچہ 10 سال کا ہے۔‘‘
اس کے بیٹے دو دیگر لڑکوں اور ایک لڑکی، جن تمام کی عمر 10 سال ہے، پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سرکاری سکول میں اظہار رائے کی آزادی پر کمرہ جماعت میں ہونے والے مباحثے میں دہشت گردی کا دفاع کر رہے تھے۔ ان بچوں کو تقریباً 10گھنٹے زیر حراست رکھ کر ان سے تفتیش کے علاوہ ان کے والدین سے بھی ان کی مذہبی رسومات اور پیغمبر اکرم حضرت محمدﷺ کے متعلق میگزین چارلی ہیبڈو میں چھپنے والے خاکوں بارے پوچھ گچھ کی گئی۔ پانچویں جماعت کے یہ طلبا ان کم از کم 14 بچوں اور نوعمر لڑکوں میں شامل ہیں جن سے پولیس نے آزادی اظہار رائے کی ایک کلاس میں توہین آمیز خاکے دکھانے پر قتل ہونے والے استاد کی یادگاری تقریب کے دوران نا مناسب تبصرے کرنے کے الزام میں حالیہ ہفتوں میں تحقیقات کی تھیں۔
جب سے چارلی ہیبڈو میں خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور فرانس نے اس کی حمایت کر کے نامناسب طور پر مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے، البرٹ ول اور اس سے ملتے جلتے معاملات نے ایک بار پھر حکومت کے رد عمل پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث فرانس کے اندرون اور بیرون ملک پہلے ہی اس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے عام فرانسیسی مسلمانوں کو انتہا پسندی کی طرف لے جانے کا خطرہ مول لیا ہے۔

صدر ایمانوئل میکرون نے اس تنقید کو سختی سے مسترد اور کچھ مسلم و مغربی ممالک کو فرانس کی سیکولر روایات کو سمجھنے، جسے لادینیت کہا جاتا ہے، میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے، میکرون نے حالیہ دنوں میں فرانس کی حمایت نہ کرنے کے حوالے سے شکایت کی اور ٹائمز سمیت امریکی نیوز میڈیا پر ’’اس تشدد کو جائز قرار دینے‘‘ کا الزام لگایا۔ غلط فہمی دور کرنے کے لئے، انہوں نے صحافیوں کو دعوت دی کہ وہ مجھے فون کریں، میری ٹیم یا وزراء کو کال کریں۔ لیکن انٹرویو کی درخواست پر رضامندی کے بعد وزیر تعلیم جان میشل بلنکر نے جمعہ کو ایک ترجمان کے ذریعہ بات کرنے سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی لادینیت کے حوالے سے برسرعام بات کر چکے ہیں اور اس پر ٹائمز کی کوریج یکطرفہ تھی۔
البرٹ ول اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات نے حکومت کے سخت ردعمل کی نشاندہی کی، جو کلاس روم تک بڑھ گیا ہے اور ملک کے سب سے قدیم بنیادی حقوق کی علمبردار تنظیموں جیسا کہ ہیومن رائٹس لیگ کی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ حکومتی اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے، لیگ نے پوچھا ہے، ’’کیا اب بھی بچوں کو بولنے کا حق ہے؟‘‘

عدالت کے نوجوان جج اور یونین عہدیدار سوفی لیگرینڈ نے کہا ہے کہ فرانس ایک ’’پیچیدہ دور‘‘ سے گزر رہا ہے جس کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے ’’تحقیقات میں ناکام رہنے‘‘ پر سختی سے جوابدہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’’لیکن اگر یہ واقعی صرف جبر ہی ہے تو اس کا نتیجہ خیز الٹ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
استاد کے قتل سے پریشان حکومت کی طرف سے اساتذہ، یونین نمائندوں، پولیس اور عدالتی عہدیداروں کو کسی بھی غیر مناسب تبصرہ اور پولیس کو تفتیش کی اطلاع دینے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ مغربی فرانس کے شہر سمور میں 11 سالہ بچے سے تحقیقات کرنے والے پولیس کمانڈر ایمانوئل ڈی سوزا کا کہنا ہے ’’ہم مکمل طور پر ایسے حالات میں ہیں جہاں ہدایات یہ ہیں کہ کسی بھی چیز کو نظرانداز نہ کریں، یہاں تک کہ انتہائی معمولی بھی‘‘۔

البرٹ ول سے گرفتار کئے جانے والے چوروں بچے اب سکول جا رہے ہیں لیکن وہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔ والدین کو توقع ہے کہ وزارت انصاف یوتھ پروٹیکشن ڈویژن کے تحت ان امور پر توجہ دی جائے گی۔ چھاپے کے بعد خوف کا شکار ایک لڑکے صہیب حارد نے نیند میں بستر پر پیشاب کر لیا، وہ اب سکول میں بات کرنے سے گھبراتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’اگر میں بات کروں گا تو پولیس آ جائے گی۔‘‘ گزشتہ ماہ قتل ہونے والے استاد کی یادگاری تقریبات یا کمرہ جماعت میں بات چیت کرتے ہوئے بچے خوف کا شکار ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں لاکھوں بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں وہاں یادگاری تقریبات اور مباحثوں کا سلسلہ تقریباً معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ اس کے باوجود وزارت تعلیم کے مطابق 400 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 150 ’’دہشت گردی کے دفاع‘‘ سے متعلق ہیں۔
وزارت انصاف کی ایک ترجمان نے کہا کہ 14 کم سن بچوں کو تحویل میں رکھا گیا ہے یا تھانوں میں ان سے تفتیش کی گئی ہے، اس تعداد میں تمام مقامی افسران کی تحویل کی اطلاعات شامل نہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 17 کم سن بچوں سے تفتیش کی گئی ہے۔ اگر ’’دہشت گردی کے دفاع‘‘ کے الزام میں سزا سنا دی جائے تو، نابالغوں کو عام طور پر شہریت کی کلاس یا کسی سماجی پروگرام میں حصہ لینا پڑے گا۔ بالغان کے لئے یا جرم کی نوعیت کے لحاظ سے یہ سزا سخت ہو سکتی ہے۔

پیرس کے ایک نواحی علاقے میں ایک 17 سالہ نوجوان، جس نے استاد کے قاتل کی بار بار حمایت کا اظہار کیا، اسے تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ مارسیل کے قریب دو 16 سالہ لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے ایک پر استاد کے قتل کی حمایت اور دوسرے پر یادگاری تقریب میں ہیڈ فون کے ساتھ موسیقی سننا بند کرنے سے انکار کا الزام ہے۔ ٹائمز اور مقامی نیوز میڈیا کے مطابق، پولیس کی طرف سے تحقیقات کے 17 معاملات میں سے 7 مسلم طلبا اور ایک رومن کیتھولک کے خلاف تھے۔ ایک لادین اور باقی کے مذہب کا تعین نہیں ہو سکا۔ ان میں سے کم از کم 14 واقعات میں طلبا پر ’’دہشت گردی کا دفاع‘‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
فرانس میں سرکاری سکولوں کا ریاست کو مذہب سے الگ رکھ کر لادین بنانے میں مرکزی کردار ہے چنانچہ جب پیٹی کو قتل کیا گیا تو اس قتل کو فرانس پر حملہ سمجھا گیا اور اساتذہ میں صدمے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وزیر تعلیم بلنکر نے مقتول استاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تمام سرکاری سکولوں میں 2 نومبر کو ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کو کہا۔ ’’لادینیت پر سختی سے عمل ہو گا اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جائے گا، ہم اخلاقی اور شہری تعلیم کو مستحکم کرنے جا رہے ہیں تاکہ آزادی اظہار رائے پر کوئی سوال نہ اٹھایا جا سکے۔‘‘
متعدد اساتذہ اور یونین عہدیداروں کے مطابق، اساتذہ کو کلاس میں ہونے والے قتل پر تبادلہ خیال کرنے کے بارے میں بہت کم رہنمائی دی گئی ہے۔ اساتذہ اور یونین کے عہدیدار سوفی وانٹیٹی نے کہا، ’’ بغیر کسی حقیقی تیاری کے بلا سوچے سمجھے معاملات طے کیت جا رہے ہیں۔‘‘

البرٹ ول میں گرفتار کئے جانے والے بچوں میں سے تین کے خاندانوں کا تعلق ترک جبکہ ایک الجزائری نسل سے ہے، جو سالہا سال سے اس شہر میں مقیم ہیں۔ کچھ کے بڑے بہن بھائیوں نے اسی چھوٹے پرائمری سکول لوئس پاسچر میں تعلیم حاصل کی ہے۔ بچوں اور ان کے والدین کے مطابق کلاس روم میں ہونے والی گفتگو میں اساتذہ شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر انہوں نے توہین آمیز خاکے دکھائے تو ان کا بھی سر قلم کیا جا سکتا ہے۔