Apr 17, 2021 | 11:17 PM

Trend TV

Better Informed Today

برطانیہ نے نواز شریف کو مزید رکھنے سے انکار کر دیا

برطانیہ: نواز شریف کو مزید رکھنے سے انکار کر دیا

برطانیہ نے نواز شریف سے کہا کہ اس سے پہلے پاکستانی حکومت کا قانونی دباؤ آئے،یہ تاثر پیدا ہو کہ برطانیہ مجرموں کی حفاظت کر رہا ہے آپ اپنے لیے کوئی اور پناہ تلاش کریں،نواز شریف کی اگلی پناہ سعودی عرب ہو سکتی ہے۔ چوہدری غلام حسین کا دعویٰپاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں،نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملک سے باہر بھیجا گیا تھا، ان کا علاج تو نہ ہو سکا تاہم کچھ ماہ بعد ہی نواز شریف نے لندن میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔حکومت بھی نواز شریف کو لندن بھیج کر پچھتا رہی ہے،نواز شریف کی وطن واپسی کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔
کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو دوست ممالک کی مدد حاصل ہے جس میں سعودی عرب شامل ہیں۔سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ نواز شریف کسی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔اسی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ تین دن قبل ہمارے پاس خبریں سامنے آئی تھیں کہ نواز شریف سے ایک سعودی وفد ملا ہے۔
یہ ملاقات نواز شریف کے بیٹے کے دفتر میں ہوئی۔دوںوں کے درمیان کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی،انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز نے جو آخری پریس کانفرنس کی تھی اس میں وہ کافی اکھڑی اکھڑی تھیں۔ان کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آرہا تھا۔جس سے واضح ہو رہا تھا کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کو کہا ہے کہ اس سے پہلے پاکستانی حکومت کا آئینی اور قانونی دباؤ آئے کہ ایک بندہ جو سزا یافتہ ہے وہ علاج کے لیے لندن گیا ہے لیکن واپس نہیں آ رہا،اس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ مجرموں کو پناہ دے رہا ہے تو لہذا نواز شریف یا تو اپنے ملک چلے جائیں یا پھر کہیں اور منتقل ہو جائیں۔
اب سعودی عرب نواز شریف کو پناہ دیتے ہیں یا نہیں یہ وقت بتائے گا تاہم سعودی عرب میں ایک اہم شخصیت کے شریف خاندان کے ساتھ کاروباری روابط ہیں۔وہ پہلے بھی شریف خاندان کی مدد کرتے رہے ہیں اور اب مدد کر رہے ہیں۔