Apr 17, 2021 | 10:19 PM

Trend TV

Better Informed Today

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے

درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا

اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے

شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے

جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے

کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب

ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ہوتی ہے

شوکت فن کی قسم حسن تخیل کی قسم

دل کے کعبے میں اذاں ہو تو غزل ہوتی ہے

میں اگر ان کے خد و خال میں کھو جاؤں کبھی

وہ کہیں ناز کہاں ہو تو غزل ہوتی ہے
(محمد عدنان خضر)