July 9, 2020

Trend TV

We Entertain in Pandemic

aqama_renewal

سعودی عرب کا اہم فیصلہ

قامے کی تجدید نہ ہونے پر تارکین وطن کو پہلی بار 500 ریال جبکہ دوسری بار 1000 ریال کا جرمانہ کیا جائے گا جبکہ تیسری بار ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے ایک کروڑ سے زائد غیر ملکی مقیم ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی شامل ہے جو 25 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ جن تارکین وطن کے اقاموں کی مُدت ختم ہو چکی ہے، وہ فوری طور پر ان زائد المیعاد اقاموں کی تجدید کروالیں، ورنہ انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔
غیر ملکی رہائشی اقاموں کی فوری تجدید کروائیں، تاکہ جرمانوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اگر کوئی تارک وطن اپنے زائد المیعاد اقامے کی تجدید نہیں کرواتا تو پہلی مرتبہ اس خلاف ورزی پر 500 ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ دوسری بار اس خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی رقم بڑھا کر دُگنی یعنی ایک ہزار ریال کر دی جائے
جبکہ تیسری بار اگر کوئی تارک وطن بروقت رہائشی اقامے کی تجدید نہیں کرواتا تو اسے مملکت سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ تارکین وطن اپنے اقاموں کے کار آمد ہونے کا پتا چلانے کے لیے وزارت داخلہ کی آن لائن سروسز ابشر اور مقیم کی ویب سائٹس پر جا کر اپنا سٹیٹس پتا کروا سکتے ہیں۔ اپریل 2020ء میں جوازات کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ مملکت میں مقیم اور مملکت سے باہر تمام سعودی اقامہ ہولڈرزکے اقاموں کی مُدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔تاہم توسیعی مُدت کی تاریخ ختم ہونے کے بعد اقاموں کی تجدید کروانا لازمی ہو گا۔ اقاموں میں یہ توسیع 30 جون 2020 تک کے لیے کار آمد ہے۔